Advertisement

سرکاری گاڑیوں کے ایندھن سے 50 فیصد کٹوتی، کابینہ ارکان کی تنخواہ بند، وزیراعظم کا کفایت شعاری منصوبے کا اعلان

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں، اسی وجہ سے دل پر پتھر رکھ کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا۔

قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے اور اگر حالات اسی طرح خراب رہے تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھنے کا امکان ہے تاہم حکومت کوشش کر رہی ہے کہ اس کا بوجھ عوام پر نہ پڑے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب قوموں پر مشکل وقت آتا ہے تو صاحبِ ثروت افراد آگے بڑھ کر ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اشرافیہ آگے آئے اور ذمہ دار معاشرے کے صاحبِ حیثیت طبقے کے طور پر اپنا کردار ادا کرے۔

انہوں نے بتایا کہ آج ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں جن کے تحت سرکاری گاڑیوں کے فیول میں 50 فیصد کٹوتی کی جائے گی، تاہم ایمبولینس اور عوامی استعمال کی گاڑیاں اس سے مستثنیٰ ہوں گی۔ آئندہ دو ماہ کے لیے تمام سرکاری محکموں کی گاڑیوں کو بند کیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم کے مطابق آئندہ دو ماہ تک کابینہ کے ارکان، وفاقی وزرا، مشیر اور معاونینِ خصوصی تنخواہ نہیں لیں گے جبکہ ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی کی جا رہی ہے۔ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے ایسے افسران جن کی تنخواہ تین لاکھ روپے سے زیادہ ہے، ان کی دو دن کی تنخواہ کاٹی جائے گی جو عوامی ریلیف کے لیے استعمال کی جائے گی۔



Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے