ان خیالات کا اظہار چیئرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پارلیمنٹری سروسز (PIPS) میں ویمنز پارلیمانی کاکس کی جانب سے عالمی یومِ خواتین 2026 کی مناسبت سے منعقدہ قومی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب کا انعقاد اس سال کے عالمی موضوع “حقوق، انصاف اور عمل ، تمام خواتین اور بچیوں کے لیے” کے تحت کیا گیا۔
چیئرمین سینیٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ سینیٹ آف پاکستان خواتین کو سماجی، معاشی اور سیاسی طور پر بااختیار بنانے کے لیے اپنے آئینی، قانون سازی اور نگرانی کے کردار کے مطابق مؤثر اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل کیے بغیر پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سال کے عالمی یومِ خواتین کا موضوع محض ایک نعرہ نہیں بلکہ اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ایک اہم پکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہو سکتی ہے جب خواتین کو پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے عمل میں مردوں کے برابر مواقع اور نمائندگی حاصل ہو۔
چیئرمین سینیٹ نے اس موقع پر پاکستان ویمن پارلیمنٹری لیڈرز پورٹل کے اجراء کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ادارہ جاتی تعاون، معلومات کے تبادلے اور خواتین کی سیاسی شمولیت کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے 2030 کے عالمی ایجنڈے کو کامیاب بنانے کی خاطر خواتین اور نوجوانوں کو ترقیاتی عمل میں مؤثر طور پر شامل کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پارلیمنٹیرینز کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرتی اور ادارہ جاتی رکاوٹوں کو دور کریں، سیاسی عزم کو مضبوط بنائیں اور ایسی قانون سازی اور پالیسیاں تشکیل دیں جو حکمرانی کے نظام کو زیادہ شفاف، منصفانہ اور نمائندہ بنائیں۔
اپنے دورِ وزارتِ عظمیٰ کا ذکر کرتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے متعارف کرائی گئی اہم قانون سازی کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ کام کی جگہوں پر خواتین کو ہراسانی سے تحفظ کا قانون 2010، تیزاب گردی کی روک تھام کا قانون 2010، خواتین کے خلاف روایتی و سماجی استحصال کی روک تھام کا قانون 2011 اور ویمن ان ڈسٹریس اینڈ ڈیٹینشن فنڈ (ترمیمی) قانون 2011 جیسے اقدامات اس بات کا واضح پیغام تھے کہ پاکستان خواتین کے خلاف ناانصافی کے سامنے خاموش نہیں رہے گا۔
انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ایک انقلابی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام نے معاشی وسائل براہِ راست خواتین تک پہنچا کر گھریلو معاشی ڈھانچے میں مثبت تبدیلی پیدا کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کے ذریعے ہم نے خیرات کے تصور سے نکل کر عزت و وقار اور خودمختاری کی طرف پیش رفت کی۔
چیئرمین سینیٹ نے پاکستان کی جمہوری تاریخ میں نمایاں کردار ادا کرنے والی خواتین رہنماؤں کو خراجِ تحسین پیش کیا جن میں محترمہ فاطمہ جناح، بیگم رعنا لیاقت علی خان، شیستا اکرام اللہ، جہاں آرا شہنواز اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان خواتین کی قیادت اور جدوجہد نے پاکستانی سیاست، سفارتکاری اور قومی ترقی میں خواتین کی فعال شرکت کی بنیاد رکھی۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سینیٹ آف پاکستان خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے اپنی آئینی ذمہ داریوں کے مطابق کردار ادا کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ حقوق کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں اور یہ کام کل نہیں بلکہ آج کرنا ہوگا۔
تقریب میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین، ویمن پارلیمنٹری کاکسز کے نمائندگان، سول سوسائٹی کے ارکان، ترقیاتی شراکت داروں اور دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی اور پاکستان میں خواتین کی سیاسی شرکت اور قیادت کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
تقریب میں سیکریٹری ویمن پارلیمنٹری کاکس ڈاکٹر شاہدہ رحمانی، چیئرپرسن وی پی سی و ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی غزالہ گولا بیگم، کنوینر وی پی سی پنجاب اسمبلی عشرت اشرف، نیشنل اسمبلی سیکرٹریٹ کے اسپیشل سیکرٹری سید شمون ہاشمی اور سندھ اسمبلی کی کنوینر وی پی سی تنزیلہ ام حبیبہ سمیت دیگر معزز مہمانان بھی شریک تھے۔
















Leave a Reply