امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے درمیان ایران کے حوالے سے ایک نئی سفارتی اور دفاعی بحث چھڑ گئی ہے۔
ایک طرف صدر ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ سے اسلحہ کی فراہمی روکنے کا مطالبہ کیا ہے، تو دوسری طرف ایک برطانوی اخبار نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ ایران کو نشانہ بنانے کے لیے چینی سیٹلائٹ کا استعمال کیا۔
‘فاکس بزنس نیٹ ورک’ کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کو ایک خط لکھا ہے جس میں ان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ایران کو ہتھیار فراہم نہ کریں۔
ٹرمپ کے مطابق، صدر شی جن پنگ نے اس کا مثبت جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بنیادی طور پر ایسا نہیں کر رہے ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے عالمی قوتوں کا تعاون حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
چینی سیٹلائٹ کے ذریعے امریکی اڈوں کی جاسوسی کا الزام
برطانوی اخبار ‘فنانشل ٹائمز’ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے 2024 کے اواخر میں خفیہ طور پر ایک چینی جاسوس سیٹلائٹ TEE-01B حاصل کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ سیٹلائٹ چینی کمپنی ‘ارتھ آئی’ (Earth Eye Co) نے تیار اور لانچ کیا تھا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے اس سیٹلائٹ کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی نگرانی کی اور ان کے درست مقامات (Coordinates) حاصل کیے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مارچ 2026 میں امریکی اڈوں پر ہونے والے ڈرون اور میزائل حملوں سے قبل اور بعد کی تصاویر اسی سیٹلائٹ سے لی گئی تھیں۔
چین کی تردید
چینی وزارتِ خارجہ نے ‘فنانشل ٹائمز’ کی اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ بیجنگ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ رپورٹ من گھڑت ہے اور کچھ قوتیں بدنیتی کی بنیاد پر چین کے خلاف افواہیں پھیلا رہی ہیں۔ چین نے واضح کیا کہ وہ اس طرح کی من گھڑت خبروں کی شدید مخالفت کرتا ہے۔
















Leave a Reply