خلیج تعاون کونسل نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کسی ایک ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملے کے مترادف سمجھا جائے گا۔
خلیج تعاون کونسل نے آبنائے ہرمز اور خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلیجی ممالک کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہیں۔
خلیج تعاون کونسل کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کسی ایک خلیجی ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملے کے مترادف تصور کیا جائے گا۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ خلیجی ممالک کو کسی بھی جارحیت کی صورت میں انفرادی اور اجتماعی دفاع کا حق حاصل ہے۔
اعلامیے میں حملوں اور ان کے ممکنہ نتائج کی تمام تر ذمہ داری ایران پر عائد کی گئی ہے۔ خلیج تعاون کونسل نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے کسی بھی یکطرفہ طریقہ کار یا انتظامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم بحری گزرگاہ کی سلامتی اور استعمال سے متعلق فیصلے بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہونے چاہئیں۔
جی سی سی نے ایران پر زور دیا کہ وہ طے شدہ مفاہمت کی یادداشتوں کی مکمل پاسداری کرے اور خطے کے امن و استحکام کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ خلیجی ممالک اپنی خودمختاری، علاقائی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے مشترکہ موقف رکھتے ہیں اور خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔
واضح رہے کہ سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے ایران کی جانب سے کویت، بحرین اور اردن پر مبینہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے علاقائی سلامتی اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ان حملوں سے برادر ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ سعودی عرب نے خطے کے ممالک کے خلاف تمام ایرانی حملے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی کارروائی کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای مشہد میں سپرد خاک، لاکھوں سوگواروں کی شرکت
دوسری جانب خلیج تعاون کونسل نے بھی ایک الگ بیان میں آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس اہم بحری راستے کے حوالے سے کسی بھی یکطرفہ انتظام یا طریقہ کار کو مسترد کیا جاتا ہے۔
جی سی سی کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی، عالمی تجارت کے تسلسل اور بغیر کسی فیس یا ٹول کے آزادانہ گزرگاہ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
















Leave a Reply