Advertisement

ٹرمپ کی درخواست پر ایران اسرائیل کا ایک دوسرے پر حملے روکنے کا اعلان

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر ایران اسرائیل نے ایک دوسرے پر حملے روکنے کا اعلان کر دیا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے رابطہ کرکے واضح الفاظ میں کہا نہ نئی جنگ چاہتا ہوں، نہ ہی گرین سگنل دے سکتا ہوں، ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم پر واضح کردیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کی صورت میں خود کو اکیلا پائیں گے۔

    امریکی صدر کی درخواست پر ایران کی خاتم الانبیاء کے مرکزی ہیڈ کوارٹر کی جانب سے اسرائیل کے خلاف کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا گیا اور کہا گیا کہ لبنان کے مظلوم عوام کی حمایت میں صہیونی حکومت کو دردناک جواب دے دیا ہے۔

    اسرائیل کو آج رات جواب دے دیا، مشیر ایرانی سپریم لیڈر

    بیان میں کہا گیا کہ اگر جارحیت اور اشتعال انگیز کارروائیاں جاری رہیں تو پہلے سے زیادہ شدید اور تباہ کن جواب دیا جائے گا۔ دوسری جانب اسرائیل نے بھی ٹرمپ کی درخواست پر ایران پر حملے روک دیے ہیں۔

  •  

    آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا

    یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہیلی کاپٹر ایرانی فائرنگ کا نشانہ بنا، کسی تکنیکی خرابی کا شکار ہوا یا حادثے کی کوئی اور وجہ تھی

    آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا

    آبنائے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق دونوں پائلٹس محفوظ ہیں اور کسی کو کوئی چوٹ نہیں آئی۔

    عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اپاچی گن شپ ہیلی کاپٹر کا عملہ حادثے کے بعد بحفاظت نکال لیا گیا، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہیلی کاپٹر ایرانی فائرنگ کا نشانہ بنا، کسی تکنیکی خرابی کا شکار ہوا یا حادثے کی کوئی اور وجہ تھی۔

    وائٹ ہاؤس، امریکی محکمہ خارجہ اور یو ایس سینٹرل کمانڈ نے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ حادثے کی وجوہات سے متعلق رپورٹ بعد میں جاری کی جائے گی۔

    یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران اور اسرائیل نے حالیہ دنوں میں ایک دوسرے پر حملے روکنے کا اعلان کیا ہے، تاہم ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر حزب اللہ کو لبنان میں نشانہ بنایا گیا تو وہ دوبارہ کارروائی شروع کر سکتا ہے۔

    گزشتہ دنوں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا، جس دوران ایران نے اسرائیل پر میزائل حملے کیے، جبکہ اسرائیل نے ایرانی دفاعی نظام اور ایک پیٹروکیمیکل پلانٹ کو نشانہ بنایا۔

    ادھر امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی سپلائی بھی متاثر ہو رہی ہے۔

  •  

    ایران اسرائیل کشیدگی میں وقفہ؛ تیل کی قیمتیں گر گئیں

    برینٹ کروڈ کی قیمت 93.34 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 90.17 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی

    ایران اسرائیل کشیدگی میں وقفہ؛ تیل کی قیمتیں گر گئیں

    ایران اور اسرائیل کی جانب سے ایک دوسرے پر حملے روکنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی، تاہم سرمایہ کار اب بھی صورتحال پر محتاط نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    منگل کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت 91 سینٹ کمی کے ساتھ 93.34 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 1.13 ڈالر کمی کے بعد 90.17 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔

    یہ کمی اس وقت سامنے آئی جب ایران اور اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپیل پر حملے روکنے کا اعلان کیا، اگرچہ دونوں ممالک نے خبردار کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر کارروائیاں دوبارہ شروع کی جا سکتی ہیں۔

    اس سے قبل قیمتوں میں پانچ فیصد تک اضافہ دیکھا گیا تھا جب اسرائیل کے ایران اور لبنان میں حملوں نے جنگ کے خاتمے کی امیدوں کو کمزور کر دیا تھا، تاہم بعد ازاں ایران کی جانب سے فوجی کارروائیاں روکنے کے اعلان پر قیمتیں نیچے آ گئیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق وقتی طور پر کشیدگی میں کمی سے مارکیٹ کو کچھ ریلیف ملا ہے؛ یہ صورتحال دیرپا ثابت ہوئی تو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیوں میں واضح کمی کا امکان ہے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے دوبارہ حملہ کیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا، جبکہ ایران نے کہا ہے کہ اگر لبنان میں حزب اللہ کو نشانہ بنایا گیا تو وہ کارروائی دوبارہ شروع کرے گا۔

    ادھر امریکا ایران سے مذاکرات میں آبنائے آبنائے ہرمز کھولنے پر زور دے رہا ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل سپلائی گزرتی ہے۔

  • جو ہو رہا ہے سب امریکا کی پلاننگ ہے، اسرائیل سفارتی عمل کی توہین کر رہا ہے، اسماعیل بقائی

    ایرانی مسلح افواج نے سعودی عرب پر کسی قسم کا کوئی حملہ نہیں کیا، ترجمان

    جو ہو رہا ہے سب امریکا کی پلاننگ ہے، اسرائیل سفارتی عمل کی توہین کر رہا ہے، اسماعیل بقائی

    ایران نے لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اس کا براہِ راست ذمہ دار امریکا کو قرار دیا ہے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ لبنان جنگ بندی معاہدے کا لازمی حصہ ہے، تاہم امریکا اس معاہدے کی حالیہ خلاف ورزیوں کا ذمہ دار ہے کیونکہ اسرائیلی اقدامات کو امریکی پالیسیوں سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔

    اسماعیل بقائی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب امریکا کی پلاننگ ہے اور واشنگٹن خطے میں دوبارہ کشیدگی بڑھانے کا باعث بن رہا ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل مذاکرات کا احترام نہیں کرتا اور سفارتی عمل کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے، جس سے امریکا کے ساتھ مستقبل کے ممکنہ سفارتی عمل کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    ترجمان نے مزید کہا کہ ایران جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے لیکن اسرائیل سفارتی اصولوں اور معاہدوں کو پامال کر رہا ہے، تاہم کسی کو بھی معاہدے کی کسی شق کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ ادارے کے سربراہ خطے کی حقیقی صورتحال کو نظر انداز کر رہے ہیں، اگر عالمی ادارہ سیاسی بیانیہ اختیار کرے گا تو اس کی ساکھ متاثر ہوگی۔

    بریفنگ کے دوران انہوں نے ان خبروں کی بھی سختی سے تردید کی کہ ایران نے سعودی عرب پر حملہ کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ایرانی مسلح افواج نے سعودی عرب پر کسی قسم کا کوئی حملہ نہیں کیا۔

    انہوں نے اعادہ کیا کہ ایران اپنی ملکی سلامتی اور مفادات کے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔

  •  

    ایران مزید میزائل نہ چلائے، مذاکرات کی میز پر واپس آئے، امریکی صدر

    نیتن یاہو سے کہوں گا کہ جوابی حملہ نہ کرے، بیروت پراسرائیلی حملوں سے خوش نہیں، ٹرمپ
  •  
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ مزید میزائل حملوں سے گریز کرے اور مذاکرات کی میز پر واپس آکر معاہدہ کرے۔

    اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران سے کہیں گے کہ جتنے میزائل چلائے جا چکے ہیں وہ کافی ہیں اور اب وقت ہے کہ سفارتی راستہ اختیار کیا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک حتمی معاہدہ طے پانے کے قریب تھا اورامکان تھا کہ اس پر پیر، منگل یا بدھ کو دستخط ہو جائیں گے تاہم موجودہ صورتحال نے تمام پیش رفت کو متاثر کردیا ہے۔

    اسرائیل کو آج رات جواب دے دیا، مشیر ایرانی سپریم لیڈر

    صدرٹرمپ نے بیروت پر اسرائیلی حملوں پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان حملوں سے خوش نہیں ہیں، انہوں نے بتایا کہ خطے میں کشیدگی کے پیش نظر امریکی فوج مکمل الرٹ ہے اور حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

    امریکی صدر کے مطابق وہ نہیں چاہتے کہ موجودہ تنازع اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل متاثر ہو۔

    انہوں نے خبردار کیا کہ اگراسرائیلی وزیراعظم  نیتن یاہو ایران پر مزید جوابی حملے کرتے ہیں تو یہ سلسلہ گزشتہ 47 برسوں کی طرح جاری رہ سکتا ہے، جس سے خطے میں استحکام کے امکانات مزید کمزور ہو جائیں گے

  • اسرائیل کو آج رات جواب دے دیا، مشیر ایرانی سپریم لیڈر

    لبنان پر حملے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرینگے، محسن رضائی

    اسرائیل کو آج رات جواب دے دیا، مشیر ایرانی سپریم لیڈر

    ایرانی سپریم لیڈر محتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران نے لبنان پر حملوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کے حوالے سے پہلے ہی اپنا مؤقف واضح کر دیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ ایسی کارروائیاں برداشت نہیں کی جائیں گی۔

    اپنے بیان میں محسن رضائی نے کہا کہ ایران نے متعدد بار آگاہ کیا تھا کہ اگر اشتعال انگیزی کا سلسلہ جاری رہا تو مناسب ردعمل دیا جائے گا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ حملہ آوروں کو اس کا جواب آج رات دے دیا گیا ہے۔

    ایرانی رہنما کے مشیرکے مطابق لبنان پرحملوں اور خطے میں کشیدگی بڑھانے والی کارروائیوں کے نتائج برآمد ہونا ناگزیر تھے۔

    بیروت حملے کے جواب میں ایران نے اسرائیل پرمیزائل داغ دیئے گئے

    انہوں نے کہا کہ ایران نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوششوں پر خاموش نہیں رہا جائے گا۔

    محسن رضائی کے بیان کو خطے میں حالیہ کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ کی صورتحال پر عالمی برادری بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

  • بیروت حملے کے جواب میں ایران نے اسرائیل پرمیزائل داغ دیئے گئے

    حیفا اور شمالی اسرائیل میں سائرن گونج اٹھے، فضائی دفاعی نظام متحرک، پاسداران انقلاب کی مزید تباہ کن نتائج کی وارننگ
  • ایران نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں اسرائیل کی جانب متعدد میزائل داغ دیے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی طرف سے میزائل فائر کیے گئے ہیں اور ان حملوں کو ناکام بنانے کے لیے فضائی دفاعی نظام مسلسل متحرک ہے۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق میزائل لانچ کا پتا چلتے ہی حیفا اور شمالی اسرائیل کے دیگرعلاقوں میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے جبکہ شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

    فوج کا کہنا ہے کہ ممکنہ مزید حملوں کے پیش نظر آئندہ چند گھنٹوں تک ہائی الرٹ برقرار رکھا جائے گا۔

    اسرائیلی حکام کے مطابق ایرانی میزائل حملوں کا دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اتوار کے روز اسرائیلی فضائیہ نے بیروت کے جنوبی مضافات کو نشانہ بنایا تھا۔ حملے کے نتیجے میں جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، تاہم حتمی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    ایران کی نئی قیادت زیادہ عقلمند :نئے سپریم لیڈر سے براہ راست بات چیت کو تیار ہوں،ٹرمپ

    دوسری جانب ایرانی حکام پہلے ہی خبردار کر چکے تھے کہ لبنان کے دارالحکومت پر حملوں کی صورت میں اسرائیل کو جواب دیا جائے گا۔

    پاسداران انقلاب نے اپنے تازہ بیان میں اسرائیل کو متنبہ کیا ہے کہ اگر لبنان پر حملے نہ روکے گئے تو نتائج مزید سنگین اور تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

    حالیہ پیش رفت نے مشرق وسطیٰ میں ایک نئی اور خطرناک کشیدگی کو جنم دے دیا ہے، جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

  •  

    ایران کی نئی قیادت زیادہ عقلمند :نئے سپریم لیڈر سے براہ راست بات چیت کو تیار ہوں،ٹرمپ

    ایران سے معاہدے کے بہت قریب ہیں،معاہدہ ہوا تو افزودہ یورینیم نکال کر تباہ کر دیں گے
    ایران کی نئی قیادت زیادہ عقلمند :نئے سپریم لیڈر سے براہ راست بات چیت کو تیار ہوں،ٹرمپ

    امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کی نئی قیادت زیادہ عقلمند ہے،نئے سپریم لیڈر سے براہ راست بات چیت کو تیار ہوں۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران سے معاہدے کے بہت قریب ہیں،معاہدہ ہوا تو افزودہ یورینیم نکال کر تباہ کر دیں گے،معاہدہ نہ ہوا تو سخت فوجی کارروائی کیلئے تیار ہیں۔

    mujtaba khamenei

    ایران نے تسلیم کر لیا ہے کہ ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے،ایران کی نئی قیادت زیادہ عقلمند ہے۔

    مجتبیٰ خامنہ ای معاہدے کی منظوری کے عمل کا حصہ ہیں،نئے سپریم لیڈر سے براہ راست بات چیت کیلئے تیار ہوں۔

  •  

    ریڈار تنصیبات پر امریکی حملے کے بعد ایران کے کویت اور بحرین پر میزائل و ڈرون حملے

    ایران کا حملہ کھلی جارحیت اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے، کویتی وزارت دفاع
    ریڈار تنصیبات پر امریکی حملے کے بعد ایران کے کویت اور بحرین پر میزائل و ڈرون حملے

    امریکا کی جانب سے ریڈار تنصیبات پر حملوں کے بعد ایران نے کویت اور بحرین پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس کے نتیجے میں خلیجی خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

    امریکی اور خلیجی حکام کے مطابق ایران نے سات بیلسٹک میزائل فائر کیے، جن میں سے بیشتر کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کر دیا گیا۔

    کویتی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ سات بیلسٹک میزائلوں کا سراغ لگا کر مؤثر جواب دیا گیا، جبکہ بحرینی فوج کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے تین ایرانی میزائلوں اور متعدد ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ بحرین اور کویت نے حملوں کو اپنی خودمختاری کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔

    کویتی وزارت دفاع نے ایرانی کارروائی کو کھلی جارحیت اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ سعودی عرب نے بحرین اور کویت پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات خطے میں امن و استحکام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں دو سے زائد ایرانی حملہ آور ڈرونز کو مار گرایا گیا اور بعد ازاں ایرانی ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ڈرونز بین الاقوامی بحری ٹریفک کے لیے خطرہ تھے۔

    ایران کے پاس صرف 21 سے 22 فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا کوئی راستہ نہیں، ٹرمپ

    امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ امریکی افواج ایرانی جارحیت کے خلاف دفاعی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، جبکہ خطے میں سیکیورٹی خدشات کے باعث صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔

  •  

    سپریم لیڈر ٹرمپ سے ملاقات نہیں کریں گے، مشیر مجتبیٰ خامنہ ای

    "اگر امریکا مثبت اقدامات کرے تو دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں”
    سپریم لیڈر ٹرمپ سے ملاقات نہیں کریں گے، مشیر مجتبیٰ خامنہ ای

    ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی نے واضح کیا ہے کہ سپریم لیڈر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات نہیں کریں گے اور موجودہ حالات میں ایسی کسی ملاقات کا کوئی امکان نہیں ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بات چیت کے عمل کو تعطل کا شکار کر رکھا ہے، تاہم اگر امریکا مثبت اقدامات کرے تو دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔

    محسن رضائی کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کو اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر امریکی عوام کے مفادات کو ترجیح دینی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر امریکا ایران کے خلاف عائد محاصرہ اور دباؤ کی پالیسی ختم کرے اور ایران کے منجمد اثاثے بحال کرے تو ایران اور امریکا کے مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے ایک نیا افق ابھر سکتا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ سیاسی عزم اور ہمت کا مظاہرہ کریں تو دونوں ممالک کے درمیان موجود کئی پیچیدہ معاملات حل کیے جا سکتے ہیں اور کشیدگی کے بجائے سفارت کاری اور باہمی احترام پر مبنی اقدامات ہی خطے اور دنیا کے مفاد میں ہوں گے۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پوڈ فورس ون پوڈ کاسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے مستقبل میں ان کی کسی موقع پر ملاقات ہوسکتی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت امریکا کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور مذاکرات میں کردار ادا کر رہی ہے اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی اس عمل سے آگاہ اور اس میں شامل ہیں۔

    انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں یہ بھی کہا تھا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات ممکن ہو سکتی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا تھا کہ ایران کو کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے