انگلینڈ کے ڈومیسٹک کرکٹ ٹورنامنٹ دی ہنڈرڈ لیگ کی 2026 پلیئر نیلامی میں پاکستانی اسپنرز نے نمایاں توجہ حاصل کر لی۔
نیلامی کے دوران پاکستان کے مسٹری اسپنر ابراراحمد کو کروڑوں روپے میں خرید لیا گیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر اس فیصلے پر خاصی بحث چھڑ گئی۔
رپورٹس کے مطابق سن رائزرز لیڈز نے ابراراحمد کو ایک لاکھ 90 ہزار پاؤنڈ میں سائن کیا ہے جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 7 کروڑ 12 لاکھ روپے بنتے ہیں۔ یہ فرنچائز سن رائزرز حیدرآباد سے منسلک گروپ کی ملکیت ہے، جس کی شریک مالکن کاویا مران (Kavya Maran) ہیں۔
اسی نیلامی میں ایک اور پاکستانی اسپنرعثمان طارق کو بھی بڑی رقم میں خریدا گیا۔ Birmingham Phoenix نے انہیں ایک لاکھ 40 ہزار پاؤنڈ (تقریباً 5 کروڑ 32 لاکھ پاکستانی روپے) میں اپنی ٹیم کا حصہ بنایا۔
دی ہنڈرڈ لیگ کیلئے کئی پاکستانی کھلاڑیوں نے خود کو رجسٹر کرایا تھا، تاہم نیلامی کے اس مرحلے تک صرف دو پاکستانی کرکٹرز کو ہی ٹیموں نے منتخب کیا ہے، کرکٹ مبصرین کے مطابق یہ دونوں کھلاڑی لیگ میں اپنی صلاحیتوں کے باعث نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
نیلامی سے قبل یہ خبریں گردش کررہی تھیں کہ بھارت سے منسلک کسی گروپ کی فرنچائز انگلینڈ کے اس ٹورنامنٹ کے لیے پاکستانی کھلاڑی کو نہیں خریدے گی تاہم سن رائزرز لیڈز کی جانب سے ابرار احمد کو ٹیم میں شامل کرنے کے فیصلے نے اس تاثر کو غلط ثابت کر دیا۔
اس فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ بعض بھارتی صارفین نے کاویا مران کو تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال اٹھایا کہ انہوں نے پاکستانی کھلاڑی کو ٹیم میں کیوں شامل کیا۔
دوسری جانب کئی کرکٹ شائقین کا کہنا ہے کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھا جانا چاہیے اور کھلاڑیوں کا انتخاب صرف کارکردگی کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق دی ہنڈرڈ لیگ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شمولیت نہ صرف لیگ کے معیار کو بہتر بنائے گی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے اسپنرز کی مہارت کو بھی اجاگر کرے گی۔

















Leave a Reply