Advertisement

روس نے امریکی فورسز سے اپنے آئل ٹینکر کے تحفظ کیلیے آبدوز بھیج دی

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا اور روس کے درمیان سمندری محاذ پر کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

امریکی بحریہ اور کوسٹ گارڈز کے بقول ایک عرصے سے روسی پرچم والے تیل بردار جہاز کی نگرانی اور تعاقب کے بعد قبضے میں لیا۔

امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ آئل ٹینکر ان جہازوں کے اس خفیہ نیٹ ورک کا حصہ ہے جسے ’شیڈو فلیٹ‘ کا نام دیا جاتا ہے اور جس کے ذریعے وینزویلا، روس اور ایران جیسے پابندیوں کی زد میں آئے ممالک کا خام تیل عالمی منڈی تک پہنچایا جاتا ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل اور امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق روس نے ٹینکر کے تحفظ کے لیے ایک آبدوز اور دیگر جنگی بحری جہاز تعینات کر دیے ہیں جس کی تصدیق امریکی حکام نے بھی کی ہے۔

روس کی وزارتِ خارجہ نے بیان میں کہا کہ امریکی فورسز کے ہمارے بحری جہاز کے تعاقب اور پھر قبضے پر شدید تشویش ہے۔

دوسری جانب امریکی کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ اس جہاز نے اپنی رجسٹریشن روس منتقل کر لی اور نام بیلا 1 سے بدل کر مارینرا رکھ دیا اور گزشتہ ماہ عملے نے جہاز پر روسی پرچم بھی نمایاں طور پر پینٹ کیا۔

یہ آئل ٹینکر سنہ 2024 سے امریکی پابندیوں کی زد میں ہے اور اس پر ایران اور حزب اللہ سے مبینہ روابط کا الزام بھی عائد کیا جا چکا ہے۔

اگرچہ یہ جہاز وینزویلا کی جانب سفر کر رہا تھا، تاہم ذرائع کے مطابق ناکہ بندی سے بچ نکلنے کے وقت اس میں کوئی تیل موجود نہیں تھا۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے