Advertisement

متحدہ عرب امارات کا حکومتی فیصلوں میں براہ راست عوامی شمولیت کیلئے نیا اقدام

عرب میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے نئے سرکاری ادارے کمیونٹی مینیجڈ ورچوئل اتھارٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اسے مکمل طور پر اماراتی شہری خود چلائیں گے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ اس اتھارٹی کو چلانے کی ذمہ داری عام شہری، ماہرین، نوجوان، کاروباری افراد اور ریٹائرڈ لوگ باری باری نبھائیں گے۔

تاہم اس اتھارٹی کی ذمہ داری نبھانے والے شہریوں کا انتخاب کا عمل الیکشن کے بجائے اہلیت، تجربے اور صلاحیت کی بنیاد پر منتخب کیا جائے گا۔

عوامی مشاورت پر مبنی اس منصوبے سے امید کی جارہی ہے کہ مملکت سے متعلق بہتر فیصلے ہوں گے۔ عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔

خیال رہے کہ سات ریاستوں (امارات) پر مشتمل متحدہ عرب امارات میں بادشاہی نظام ہے جہاں سربراہِ مملکت یعنی صدر ابو ظہبی کا حکمران ہوتا ہے۔

اسی طرح وزیراعظم کا عہدہ سربراہِ ریاست دبئی کا حکمران ہوتا ہے اور فیصلہ سازی کا اختیار انھی دونوں کو ہوتا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے اس حکومتی ماڈل میں عوام کی شمولیت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اور اسی کمی کو دور کرنے کے لیے نئی اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے