Advertisement

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی صدر سے کرپشن کیس میں معافی کی درخواست

غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے صدر سے کرپشن کیس میں معافی کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ کیس کی فوجداری ٹرائل کی وجہ سے ان کی انتظامی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے اور اس کیس میں معافی اسرائیل کے لیے اچھی ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو کے وکیل سے صدر کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ وزیراعظم کا ماننا ہے کہ کیس کا ٹرائل مکمل ہونے کے بعد وہ بری ہوجائیں گے۔

وکلا نے بتایا کہ وزیراعظم کے خلاف فوجداری سماعت کی وجہ سے ملک میں تقسیم ہوگئی ہے اور قومی اتفاق رائے کے لیے کیس کا خاتمہ ضروری ہے اور اس کی وجہ سے وزیراعظم کو انتظامی ذمہ داری پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

حکمران جماعت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ میرے وکلا نے صدر کو کیس میں معافی کے لیے درخواست آج بھیج دی ہے اور مجھے توقع ہے کہ جو کوئی ملک کے لیے اچھا چاہتا ہے وہ اس اقدام کی حمایت کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے ہفتے میں تین دفعہ پیش ہونا پڑتا ہے جو ایک ناممکن مطالبہ ہے اور یہ کسی اور شہری کے لیے نہیں ہے جبکہ انتخابات میں بارہا کامیابی کے ذریعے عوام کا اعتماد بھی حاصل کرچکا ہوں۔

دوسری جانب اپوزیشن لیڈر یایر لیپڈ نے کہا کہ نیتن یاہو کو اس وقت تک معافی نہیں ملنی چاہیے جب تک وہ جرم کا اعتراف نہ کرے، پچھتاوا کا اظہار اور فوری طور پر سیاست سے ریٹائر نہیں ہوتے۔

ادھر اسرائیلی صدر کے دفتر نے بیان میں کہا ہے کہ نیتن یاہو کی درخواست غیرمعمولی ہے اور اس کے سنجیدہ نتائج ہیں تاہم صدت متعلقہ حکام کے مشورے کے بعد اس درخواست پر ذمہ داری اور دیانت داری سے غور کریں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیل میں طویل ترین حکمرانی کرنے والے نیتن یاہو پر رشوت لینے، فراڈ اور غبن کے دیگر الزامات ہیں تاہم وہ اس کو مسترد کر رہے ہیں۔

نیتن یاہو کے خلاف گزشتہ 5 برس سے زیرسماعت کرپشن کے ٹرائل میں وکلا اور نیتن یاہو نے اعتراف جرم نہیں کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں معافی صرف اس صورت میں دی جاتی ہے جب قانونی کارروائی مکمل ہوتی ہے اور ملزم کو سزا ہوجاتی ہے لیکن نتین یاہو کے وکلا کا مؤقف ہے کہ صدر عوامی دلچسپی کے معاملات پر مداخلت کرسکتے ہیں اور یہ معاملہ قومی اتحاد کو مضبوط کرنے اور انتشار سے بچنے کے لیے ضروری ہے۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے