کراچی (08 مارچ 2026): صوبہ سندھ میں ٹریفک حادثات کے شکار افراد کے مالی تحفظ کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا گیا ہے۔ سندھ حکومت نے سندھ موٹر وہیکل ایکٹ میں ترامیم متعارف کرا دی ہیں جن کے تحت گاڑیوں کے لیے تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس لازمی قرار دے دی گئی ہے۔
نئی ترامیم کے مطابق تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس کی شرط کو وہیکل رجسٹریشن کے قانون کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ اس کے تحت تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس کے بغیر کسی گاڑی کی رجسٹریشن نہیں کی جائے گی۔
حکام کے مطابق گاڑی کی ملکیت کی منتقلی (ٹرانسفر) اور ٹوکن ٹیکس کی ادائیگی کے لیے بھی تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس لازمی ہوگی۔
نئے نظام کے تحت اگر سڑک حادثے میں کسی شخص کی جان ضائع ہو جائے تو متاثرہ فریق کو بیمہ کی مد میں 7 لاکھ روپے تک معاوضہ دیا جائے گا، جب کہ مستقل معذوری کی صورت میں متاثرہ شخص کو 5 لاکھ روپے تک رقم فراہم کی جائے گی۔
حکومت پنجاب کے لگژری طیارے کے شاہانہ اخراجات، ہوشربا انکشافات
ادھر سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کا کہنا ہے کہ تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس کو باقاعدہ قانون کا حصہ بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ادارے کے مطابق تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس پالیسیوں کی تصدیق کے لیے آن لائن ڈیٹا بیس بھی تیار کر لیا گیا ہے۔
ایس ای سی پی کے مطابق پنجاب میں بھی گاڑیوں کے روٹ پرمٹ کو انشورنس سسٹم سے منسلک کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ٹریفک حادثات میں متاثر ہونے والے افراد کو مالی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
















Leave a Reply