Advertisement

ٹرافی مسجد نہیں جا سکتی تو مندر کیوں گئی؟ بھارت میں نیا تنازع

ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ کی ٹرافی مندر لے جانے پر بھارت میں نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں سابق کرکٹر اور رکن پارلیمنٹ کرتی آزاد نے اس اقدام پر سخت تنقید کی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے صدر  ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ ٹرافی کے ہمراہ ایک مندر پہنچے، جس پر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔

کرتی آزاد نے کہا کہ بھارت کو اس معاملے پر شرمندہ ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق جب 1983 کا عالمی کپ جیتنے والی بھارتی ٹیم وطن واپس آئی تھی تو اس ٹیم میں ہندو، مسلمان، سکھ اور عیسائی کھلاڑی شامل تھے اور اس وقت ٹرافی پورے ملک کی نمائندگی کرتی تھی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ موجودہ فاتح ٹیم نے پورے بھارت کی نمائندگی کی ہے، نہ کہ کسی ایک فرد یا مذہب کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کھلاڑی  ٹرافی کو مسجد نہیں لے جا سکتے اور سنجو سیمسن اسے چرچ نہیں لے گئے تو پھر ٹرافی مندر کیوں لے جائی گئی؟

کرتی آزاد کا کہنا تھا کہ یہ ٹرافی 140 کروڑ بھارتیوں کی ہے اور اسے کسی ایک مذہب سے منسوب نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ جے شاہ ٹرافی کے ہمراہ مندر کس حیثیت میں گئے۔

واضح رہے کہ اس معاملے پر بھارتی ٹیم کو اپنے ہی ملک میں تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور سوشل میڈیا پر اس موضوع پر بحث تیز ہو گئی ہے۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے