عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خابی لامے نے کورونا وبا میں فیکٹری کی نوکری ختم ہونے کے بعد سوشل میڈیا کا رخ کیا تھا۔
جہاں وہ خاموش مزاحیہ اداکاری کرتے تھے۔ جس سے لوگوں کو چارلی چپلن کی یاد آگئی اور ان کے فالورز کی تعداد بڑھتی گئی۔
یہاں تک کہ سینیگالی نژاد اطالوی خابی لامے کے ٹک ٹاک پر 161 ملین اور انسٹاگرام پر 77 ملین سے زائد فالوورز ہوگئے۔
سوشل میڈیا پر شروع ہونے والا یہ سفر آج عالمی شہرت اور اربوں ڈالر کے کاروبار تک پہنچ چکا ہے۔ جس کا انداز ان کے ایک حالیہ کاروباری اقدام سے لگایا جا سکتا ہے۔
ٹک تاک اسٹار خابی لامے نے اپنی کمپنی ’اسٹیپ ڈسٹنکٹیو لمیٹڈ‘ کو تقریباً 975 ملین ڈالرز میں فروخت کر دیا۔
یہ کمپنی ان کے عالمی برانڈ، اشتہاری معاہدوں اور کمرشل سرگرمیوں کا مرکز تھی جسے ہانگ کانگ کی پبلک لسٹڈ ہولڈنگ فرم رِچ اسپارکل نے خریدا۔
خریداری کے اس معاہدے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ چین کی لائیو اسٹریمنگ اور ای کامرس کمپنی انہوئی ژیاؤہیانگ نیٹ ورک ٹیکنالوجی اگلے 36 ماہ تک خابی کے عالمی کمرشل منصوبوں کی خصوصی آپریٹنگ پارٹنر رہے گی۔
















Leave a Reply