Advertisement

حکومت، سیاست، مسلح جدوجہد؛ پرُخار راہوں میں مارے جانے والا سیف الاسلام قذافی

سیف الاسلام قذافی کو مغربی لیبیا کے شہر زنتان میں قتل کر دیا گیا ہے۔ وہ ایک ایسی پُراسرار گولی کا نشانہ بنے جس کا ابھی سراغ لگایا جا رہا ہے اور شاید یہ گتھی کبھی نہ سلجھ پائے۔

گو ان کی سیاسی ٹیم نے دعویٰ کیا کہ 4 نقاب پوش افراد نے 53 سالہ رہنما سیف الاسلام قذافی کے گھر میں گھس کر انہیں قتل کیا۔

2011 کی بغاوت کے بعد سے زیادہ تر وقت زنتان ہی میں گزارا۔ وہ اپنے والد کے دور میں بھی طاقتور شخصیت تھے اور اب بھی انھیں آئندہ کا حکمراں سمجھا جا رہا تھا۔

اقتدار کے وارث سے مطلوب ملزم تک

سیف الاسلام قذافی لیبیا کے حکمراں معمر قذافی کے دوسرے بیٹے تھے اور 2011 میں حکومت پلٹ بغاوت سے پہلے انہیں لیبیا کا سب سے بااثر شخص تصور کیا جاتا تھا۔

عرب بہار کے دوران جب لیبیا خانہ جنگی کی لپیٹ میں آیا تو وہ اپنے والد کی حکومت کے دفاع میں پیش پیش رہے۔ اسی دوران ان پر مخالفین کے خلاف تشدد اور بدسلوکی کے سنگین الزامات عائد ہوئے۔

فروری 2011 تک ان کا نام اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہو چکا تھا اور ان پر سفری پابندی لگ گئی تھی۔ جون 2011 میں عالمی فوجداری عدالت (ICC) نے بھی ان کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیا۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے