ممبئی(7 مارچ 2026): مشہور ریپر اور سنگر بادشاہ ایک بار پھر بڑے تنازع میں گھر گئے ہیں۔
مشہور ریپر اور سنگر بادشاہ کا حال ہی میں ریلیز ہونے والا ہریانوی میوزک ویڈیو ‘ٹیٹیری’ ہریانہ میں پولیس شکایت اور قانونی کارروائی کے بعد یوٹیوب سے ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ہریانہ پولیس نے جمعہ کے روز پنچکولہ کے سائبر کرائم پولیس اسٹیشن میں بادشاہ کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ یہ شکایت ایک مقامی شہری کی جانب سے درج کرائی گئی جس نے الزام لگایا کہ گانے کے بول اور مناظر انتہائی قابل اعتراض اور نامناسب ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق یہ مقدمہ ‘خواتین کی نازیبا عکاسی ایکٹ 1986’ کی دفعات 3 اور 4 اور بھارتیہ نیا سنہتا کی دفعہ 296 کے تحت درج کیا گیا ہے، جو فحش حرکات اور گانوں سے متعلق ہے۔
شکایت گزار کا کہنا ہے کہ میوزک ویڈیو میں لڑکیوں کو اسکول یونیفارم میں دکھایا گیا ہے اور ایک اسکول جیسا ماحول بنایا گیا ہے جسے ‘بادشالہ’ کا نام دیا گیا ہے، جو کہ لفظ ‘پاتھ شالہ’ کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔
شکایت میں مزید کہا گیا کہ گانے کے بول اور مناظر نازیبا ہیں جو معاشرے میں غلط پیغام بھیج سکتے ہیں۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ اسکول کے ماحول میں ایسے مناظر دکھانے سے بچوں اور نوجوانوں پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔
ہریانہ اسٹیٹ کمیشن برائے خواتین نے بھی اس معاملے کا نوٹس لے لیا ہے۔ کمیشن کی چیئرپرسن رینو بھاٹیہ نے بتایا کہ بادشاہ کو 13 مارچ کو طلب کیا گیا ہے تاکہ وہ گانے کے بول اور مناظر کے پیچھے چھپے مقصد کی وضاحت کریں۔
دریں اثنا، مہیپال ڈھانڈا نے کہا کہ ریاستی حکومت نے اس معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے میوزک ویڈیو میں اسکول کی طالبات کی اس طرح کی عکاسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا۔
انہوں نے حکام کو یہ تحقیقات کرنے کی بھی ہدایت کی ہے کہ ویڈیو میں دکھائی گئی سرکاری بس کے استعمال کے لیے اجازت لی گئی تھی یا نہیں۔ پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور مزید کارروائی تفتیش کے نتائج کی روشنی میں کی جائے گی۔
















Leave a Reply