امریکی سینیٹر برنی سینڈر نے بیان سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ صڈر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس دوسرے ملک پر حملہ کرنے کا آئینی اختیار نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب 60 فیصد امریکی تنخواہ سے تنخواہ پر گزارہ کر رہے ہیں تو انہیں گھر کے بحرانوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے، غیرقانونی عسکری جارحیت ختم کریں اور وینزویلا کو تیل کے لیے چلانے کی کوششیں ترک کردیں۔
اس سے قبل انہوں نے وینزویلا میں کارروائی کے خلاف اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی، عالمی سلامتی کو خطرے سے دوچار کر رہی ہے اور اس سے جنگ کے اعلان کرنے کا کانگریس کا واحد حق بھی ختم ہوجاتا ہے۔
برنی سینڈرز نے کانگریس پر زور دیا کہ فوری طور پر اس کارروائی کے خلاف قرارداد منظور کرنی چاہیے تاکہ یہ کارروائی ختم ہوسکے۔
انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر آئین اور قانون کی حکمرانی پر حقارت کا مظاہرہ کیا ہے کیونکہ امریکا کے صدر کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ یک طرفہ طور پر ملک کو جنگ میں دھکیل دے، چاہے وہ مادورو جیسے کرپٹ اور ظالم ڈکٹیٹر کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو وینزویلا کے امور چلانے کا حق بھی حاصل نہیں، اس لیے کانگریس کو فوری طور پر ایک بھرپور قرارداد منظور کر کے اس غیر قانونی فوجی کارروائی کو ختم کرنا اور اپنے آئینی فرائض کی ادائیگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
















Leave a Reply